Muslim Community Muslim Community
    Búsqueda Avanzada
  • Acceder
  • Registrar

  • Modo nocturno
  • © 2026 Muslim Community
    Pin • Directorio • Contacto • Política • Condiciones • Reembolso • Disclaimer

    Seleccionar Idioma

  • Arabic
  • Bengali
  • English
  • French
  • German
  • Hindi
  • Indonesian
  • Japanese
  • Persian
  • Russian
  • Spanish
  • Turkish
  • Urdu

Mirar

Mirar

Eventos

Examinar eventos Mis eventos

Blog

Examinar artículos

Páginas

Mis páginas Páginas Me gusta

Más información

Foro Explorar entradas populares Financiaciones
Mirar Eventos Blog Mis páginas Ver todo
Sahiba Khatoon
User Image
Arrastra la portada para recortarla
Sahiba Khatoon

Sahiba Khatoon

@sahiba
  • Cronología
  • Grupos
  • Me gusta
  • Siguiendo 1
  • Seguidores 72
  • Fotos
  • Videos
  • Productos
Follow my Instagram account
1 Siguiendo
72 Seguidores
24 Mensajes
https://www.instagram.com/sahiba.reminds?igsh=MW93
Mujer
19 años
Viviendo en India
image
image
image
image
image
image
Sahiba Khatoon
Sahiba Khatoon
7 w ·Traducciones

🌸الفاتحۃ: 1، آیت 3🌸

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِﭤ(3)

🌸ترجمۂ کنز الایمان🌸

روزِ جزاء کا مالک۔

🌸تفسیر صراط الجنان🌸


{مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ:جزا کے دن کامالک۔} جزا کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے کہ ا س دن نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کو ثواب ملے گا اور گناہگاروں اور کافروں کو سزا ملے گی جبکہ’’مالک‘‘ اُسے کہتے ہیں جو اپنی ملکیت میں موجود چیزوں میں جیسے چاہے تصرف کرے۔ اللہ تعالیٰ اگرچہ دنیا و آخرت دو نوں کا مالک ہے لیکن یہاں ’’قیامت‘‘ کے دن کو بطور خاص اس لئے ذکر کیا تاکہ اس دن کی اہمیت دل میں بیٹھے۔ نیز دنیا کے مقابلے میں آخرت میں اللہ تعالیٰ کے مالک ہونے کا ظہور زیادہ ہوگا کیونکہ اُس دن کسی کے پاس ظاہری سلطنت بھی نہ ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اس لئے یہاں خاص طور پر قیامت کے دن کی ملکیت کا ذکر کیا گیا۔

#islamic #quran #tafseer #tarjuma

Me gusta
Comentario
Compartir
Sahiba Khatoon
Sahiba Khatoon
7 w ·Traducciones

🌸الفاتحۃ: 1، آیت 3🌸

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِﭤ(3)

🌸ترجمۂ کنز الایمان🌸

روزِ جزاء کا مالک۔

🌸تفسیر صراط الجنان🌸


{مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ:جزا کے دن کامالک۔} جزا کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے کہ ا س دن نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کو ثواب ملے گا اور گناہگاروں اور کافروں کو سزا ملے گی جبکہ’’مالک‘‘ اُسے کہتے ہیں جو اپنی ملکیت میں موجود چیزوں میں جیسے چاہے تصرف کرے۔ اللہ تعالیٰ اگرچہ دنیا و آخرت دو نوں کا مالک ہے لیکن یہاں ’’قیامت‘‘ کے دن کو بطور خاص اس لئے ذکر کیا تاکہ اس دن کی اہمیت دل میں بیٹھے۔ نیز دنیا کے مقابلے میں آخرت میں اللہ تعالیٰ کے مالک ہونے کا ظہور زیادہ ہوگا کیونکہ اُس دن کسی کے پاس ظاہری سلطنت بھی نہ ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اس لئے یہاں خاص طور پر قیامت کے دن کی ملکیت کا ذکر کیا گیا۔

Me gusta
Comentario
Compartir
Sahiba Khatoon
Sahiba Khatoon
8 w ·Traducciones

Is ayat ka message aapko kitna clear laga?

Bilkul clear
Thoda mushkil
Dobara padhna padega
3 Total de votos
Me gusta
Comentario
Compartir
Sahiba Khatoon
Sahiba Khatoon
8 w ·Traducciones

الفاتحۃ: 1، آیت

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (1)

🌸 ترجمہ: کنز الایمان 🌸
سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا۔

🌸 تفسیر: صراط الجنان 🌸

{اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ:سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔} یعنی ہر طرح کی
حمد اور تعریف کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کمال کی تمام صفات کا جامع ہے ۔

حمد اور شکر کی تعریف:

حمد کا معنی ہے کسی کی اختیاری خوبیوں کی بنا پر اُس کی تعریف کرنا اور شکر کی تعریف یہ ہے کہ کسی کے احسان کے مقابلے میں زبان، دل یا اعضاء سے اُس کی تعظیم کرنا اورہم چونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد عام طور پراُس کے احسانات کے پیش نظر کرتے ہیں اس لئے ہماری یہ حمد’’ شکر‘‘ بھی ہوتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے فضائل:

احادیث میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے 3فضائل درج ذیل ہیں:

(1)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ بندے کی اس بات سے خوش ہوتاہے کہ وہ کچھ کھائے تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور کچھ پئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرے۔(مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب استحباب حمد اللہ۔۔۔الخ، ص۱۴۶۳، الحدیث: ۸۹(۲۷۳۴))

(2)…حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ سب سے افضل ذکر ’’لَآ اِلٰــہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ ہے اور سب سے افضل دُعا ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ‘‘ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴ / ۲۴۸، الحدیث: ۳۸۰۰)

(3)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ (نعمت ملنے پر) ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰه‘‘کہتا ہے تو یہ حمد اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دی گئی نعمت سے زیادہ افضل ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴ / ۲۵۰، الحدیث: ۳۸۰۵)

حمد سے متعلق شرعی حکم :

خطبے میں حمد’’ واجب‘‘، کھانے کے بعد ’’مستحب‘‘، چھینک آنے کے بعد ’’سنت‘‘ ،حرام کام کے بعد ’’حرام‘‘ اور بعض صورتوں میں ’’کفر‘‘ہے۔

{لِلّٰهِ:اللہ کے لئے۔}’’اللہ‘‘ اس ذات ِ اعلیٰ کاعظمت والا نام ہے جو تمام کمال والی صفتوں کی جامع ہے اوربعض مفسرین نے اس لفظ کے معنٰی بھی بیان کیے ہیں جیسے ا س کا ایک معنی ہے: ’’عبادت کا مستحق‘‘ دوسرا معنی ہے: ’’وہ ذات جس کی معرفت میں عقلیں حیران ہیں ‘‘ تیسرا معنی ہے: ’’وہ ذات جس کی بارگاہ میں سکون حاصل ہوتاہے‘‘ اور چوتھا معنی ہے: ’’وہ ذات کہ مصیبت کے وقت جس کی پناہ تلاش کی جائے۔‘‘(بیضاوی، الفاتحۃ، ۱ / ۳۲)

{رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ: جو سارے جہان والوں کا مالک ہے۔}لفظ’’رب‘‘ کے کئی معنی ہیں : جیسے سید، مالک، معبود، ثابت، مصلح اور بتدریج مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر موجود چیز کو عالَم کہتے ہیں اور اس میں تمام مخلوقات داخل ہیں۔(صاوی، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۱۶، خازن، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۱ / ۱۷، ملتقطاً

Me gusta
Comentario
Compartir
Sahiba Khatoon
Sahiba Khatoon
8 w ·Traducciones

#islamic #quotes

image
Me gusta
Comentario
Compartir
Cargar más publicaciones

No amigo

¿Estás seguro de que quieres unirte?

Reportar a este usuario

Editar oferta

Agregar un nivel








Seleccione una imagen
Elimina tu nivel
¿Estás seguro de que quieres eliminar este nivel?

Comentarios

Para vender su contenido y publicaciones, comience creando algunos paquetes. Monetización

Pagar por billetera

Alerta de pago

Está a punto de comprar los artículos, ¿desea continuar?

Solicitar un reembolso